ابنا: عوامی نیشنل پارٹی کے صدر کے اس انکشاف یا اعتراف پر تبصرہ کررہے ہیں پاکستان کے معروف صحافی عمر ریاض عباسی۔جیسا کہ معروف تجزيہ کار عمر ریاض عباسی نے اپنی گفتگو میں اشارہ کیا ہے کہ طالبان تحریک اس وقت کئی حصّوں میں بئی ہوئی ہے اور جو گروپ کوئی بھی کاروائي انجام دیتا ہے تو اس کا اصل ہدف وہ ہوتا ہے جو ان کے پیچھے بیٹھی اصل طاقتوں کا ہوتا ہے ۔ بعض اوقات خود طالبان کو اسکا احساس بھی نہیں ہوتا ۔پاکستان میں فرقہ وارانہ کاروائیوں میں ملوث طالبان کے پیچھے امریکہ اور اسکے اتحادی سعودی عرب کا بنیادی کردار ہے ۔ امریکہ اور سعودی عرب کے لئے یہ بات ہرگز قابل تحمل نہیں کہ پاکستان کے عوام باہمی اتحاد و وحدت کے ساتھ ملکی مفادات کے لئے قدم بڑھائیں یوں بھی اگر پاکستان کے مختلف مسالک کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہوجائیں تو پاکستانی سیاست میں سعودی عرب کاکردار ختم ہو جانے کا واضح امکان ہے اسی لئے سعودی لابی کی یہ پوری کوشش رہتی ہے کہ ملک میں قتل و غارت اور تکفیریت کا سلسلہ جاری رہے تا کہ مختلف مسالک ایک دوسرے کے قریب نہ آسکیں۔ سعودی عرب نے امریکہ کی ایما پر یہی پالیسیاں شام ، عراق ، لبنان ، بحرین اور بعض دوسرے ممالک میں بھی اپنا رکھی ہیں ۔ خطے کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے آل سعود سے جو کام لینا تھا وہ اب لے چکا ہے وہ مستقبل میں آل سعود کو ہٹا کر کسی اور گروپ کو سامنے لانا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ آل سعود کو انتہائي بری طرح استعمال کررہا ہے جس سے عالم اسلام میں اسکی رہی سہی ساکھ بھی ہر روز خراب ہورہی ہے ایسے میں طالبان اور سعودی عرب کے تعلقات نیز آل سعود کی اسلام مخالف حرکتیں مزيد سامنے کی پیشگوئیاں کی جارہی ہیں جس سے نہ صرف مسلمانوں میں آل سعود کے خلاف نفرتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ سعودی عرب کے اندر بھی اپوزیشن قوتوں کو اس ڈکٹیٹر حکومت سے نجات کے لئے نئی زندگي اور تازہ امید ملے گي۔
.....
/169